Khobsoorti Qabliyat Ka Mayyar Nahi

Khobsoorti Qabliyat Ka Mayyar Nahi
Khobsoorti Qabliyat Ka Mayyar Nahi

آپ نے محاورہ تو سنا ہو گا کہ خوبصورتی چہرے میں نہیں بلکہ دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتی ہے ۔یعنی ہمیں جو خوبصورت لگے وہی خوبصورت ہوتا ہے۔اسی طرح خوبصورتی قابلیت کا معیار نہیں ہے یعنی کسی انسان کی خوبصورتی سے اس کی قابلیت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔
کسی شاعر نے جو یہ کہا تھا کہ ہر چہرہ کسی کا حبیب ہوتا ہے تو شاید اس کی وجہ بھی یہی ہو سکتی ہے کہ دیکھنے والے کی آنکھ فیصلہ کر سکتی ہے۔
کہ اس کے لیے کون خوبصورت ہے۔یہ بات دل کے بہلانے کے لیے تو صحیح معلوم ہوتی ہے ۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ بات دماغ کے بہلانے کو بھی درست ہے۔یعنی اگر دماغ کام کررہا ہوتو بھی کیا اپنی پسندکا چہرہ خوبصورت سمجھا جا سکتا ہے ۔کیونکہ خوبصورتی کا بہر طور ہر معاشرے میں کوئی خاص معیار ہوتا ہے اور اسی پیمانے پر انسان کا دماغ پر فیصلہ کرتا ہے کہ وہ جس معاشرے کا فرد ہے ۔
اس نے نقطہ نظر سے کون واقعی خوبصورت ہے یا کسے واقعی خوبصورت سمجھا جانا چاہیے اور اس طرح دل چاہے جو بھی کہے یہ فیصلہ دماغ دل کو بتانے کی کوشش کرتا رہتا ہے ۔کہ آپ جس کو خوبصورت سمجھ رہے ہیں وہ آپ کے معاشرے میں خوبصورتی کے دائرے میں آتا ہے یا نہیں۔
ہر انسان کی خوبصورتی کا دائرہ الگ ہوتا ہے ۔ہر انسان اپنے آپ میں خوبصورت ہوا ہے ۔مرد کی خوبصورت اس کی شکل میں نہیں اس کے الفاظ میں ہوتی ہے ۔
جو شخص جس خوبصورت انداز میں مخاطب ہوتا ہے وہ اتنا ہی پرکشش لگتا ہے۔
لیکن حقیقت میں ظاہری خوبصورتی اصل اور حقیقی خوبصورتی کے برعکس ہے ۔ہمارے معاشرے میں ظاہر ی خوبصورتی کو حقیقی اور دماغی خوبصورت پر فوقیت حاصل ہے ۔بے شک ظاہری خوبصورتی آنکھ کو پر کشش محسوس ہوتی ہے لیکن صرف اور صرف ظاہری خوبصورتی کو کسی بھی انسان کے قابلیت کا معیار نہیں ہونا چاہیے یہ بات معاشرے میں احساس کمتری پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے اور معاشرے کے وہ ذہین لوگ جو کہ کسی معاشرے کا اثاثہ ہوتے ہیں ظاہری خوبصورتی کی نظر ہو جاتے ہیں ۔
کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لیے یہ بات ضروری ہے کہ خوبصورتی کو کسی شخص کی قابلیت کا معیار نہ سمجھا جائے بلکہ اس کی تمام خامیاں اورخوبیاں ایک طرف رکھ کر اس کی ذہنیت کو ترجیح دی جائے ۔کسی بھی شخص میں رنگ ونسل ،ذات پات اور خوبصورتی یا بد صورتی کو اس کے کام میں حائل نہ کیاجا ئے اور یہی ایک اصل اور ترقی پسند معاشرے کی پہچان ہوتی ہیں۔
ہمارے معاشرے میں آج خوبصورت کو قابلیت سے اُوپر سمجھا جاتا ہے ۔
گورے رنگ کا زمانہ کبھی پرانا نہیں ہو سکتا۔گورے رنگ کو آج بھی فوقیت حاصل ہے جو لوگ گورے نہیں ہیں ان کے لئے سائنس نے نت نئے طریقے ایجاد کر دئیے ہیں۔وہ لوگ جن کا رنگ گورا نہیں ہے اب وہ گورے ہونے والے انجکشن لگا کر اپنا رنگ گورا کر لیتے ہیں۔لیکن ظاہری خوبصورتی کے دیوانے اس معاشرے میں کچھ لوگ آج بھی قابلیت کو خوبصورتی کے مقابلے میں زیادہ فوقیت دیتے ہیں۔
مسرت مصباح ایک ایسی مثال ہیں جنہوں نے خواتین کے ایسی طبقے کو متعارف کروایا ہے جو اپنی پہچان خود کھو چکی تھیں۔انہوں نے ان خواتین کو خود اعتمادی دی جو تیزاب گردی سے متاثرہ تھیں۔ان خواتین کو معاشرے میں مقام دلانہ ان کی قابلیت کی بناپر مسرت مصباح نے اپنی مثال سے یہ بات ثابت کی ظاہری خوبصورتی زندگی گزارنے کا معیار نہیں ہے۔پاکستان میں ایسی بہت سی خواتین ہیں جنہوں نے اپنی قابلیت کی بنا پر پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔
عائشہ فاروق پہلی پاکستانی فائٹر پائلٹ ہیں جنہوں نے خواتین کا ہی نہیں پورے ملک کانام روشن کیا اور یہ بات ثابت کردی ہے کہ عورتیں کسی سے کم نہیں۔
مہک گل ایک چھ سالہ کھلاڑی ہے جس نے انٹر نیشل پلیئربن کر یہ بات ثابت کردی کہ عمرکا قابلیت سے کوئی تعلق ہے۔پروین سعید جس نے اپنا بزنس ”کھانا گھر“کے نام سے شروع کیا جس میں تین روپے میں گرم کھانا فراہم کیا جاتا تھا جس نے ہزاروں غریب لوگوں کی مدد کی اس طرح انہوں نے ایک اور مثال قائم کی کہ خوبصورت انسان کا دل ہوتا ہے اس کی شکل نہیں ۔
اس طرح اور بہت سی مثالیں مغرب میں بھی موجود ہیں۔
ہمارے معاشرے کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ ہم قابلیت کو خوبصورتی پر فوقیت دیں اور خوبصورتی کو قابلیت کا معیار نہ بنائیں تاکہ ہر فرد آگے بڑھ سکے اور ملک کی ترقی کے لئے کام کر سکے اور ملک وقوم کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکیں خود بھی خوبصورتی کی اس مقابلہ بازی سے بچیں اور باقی اپنے اردگرد کے لوگوں کو بھی خود اعتمادی دلائیں تاکہ ہر فرد ترقی کر سکے۔

You must have heard that beauty is not in the face, but in the eye of the beholder. That is, what we think is beautiful. Beauty is not the standard of merit, that is, the quality of a human being. Cannot apply.
If a poet who said that every face is an impostor, then perhaps the reason for this is that the eye of the beholder can decide.
Who is beautiful for that? It seems to be true for the heart. But the question is whether this thing is true for the mind too. That is, even if the brain is functioning, do you think your favorite face is beautiful? Because beauty has a certain standard in every society and on that scale, the human mind decides on which society it belongs to.
From this point of view, whoever is really beautiful or who really needs to be considered beautiful and thus whatever the heart may say, the mind keeps trying to tell the heart. What you think is beautiful is the beauty in your society. Or not.
The beauty of every human being is different. Every human being is beautiful in itself. The beauty of the dead is not in its shape but in its words.
A person who looks so beautiful looks just as attractive.
But in reality, outward beauty is the opposite of real and true beauty. In our society, beauty is dominated by real and mental beauty. Of course, beauty looks attractive to the eye, but only and only outward beauty can any human being. There should be no standard of competency, it creates a sense of humor in society, and the intelligent people who are an asset to a society become out of sight.
For the development of any society it is imperative that beauty should not be considered as a standard of a person’s ability, but that his mentality should be given priority by keeping all its deficiencies and qualities aside. And beauty or ugliness should not be disturbed in its work, and it is a recognition of an original and progressive society.
In our society today, beauty is considered above ability.
The age of whites can never be outdated. Science is still in the process of inventing new ways for those who are not white. Apparently, the beauty of the outlook is that in this society, some people still prefer the abilities more than the beauty.
Misrat Misbah is an example of those who have introduced themselves to a class of women who have lost their identity. Regardless, Misrat Misbah has shown by his example that the outward beauty is not the standard of living. There are many women in Pakistan who have made Pakistan’s name clear because of their abilities.
Ayesha Farooq is the first Pakistani fighter pilot who has made the country famous not only for women and has proved that women are no less.
Mahek Gul is a six-year-old athlete who proved that he has something to do with Umar’s qualification. Praveen Saeed, who started his own business called ‘Dinah Ghar’, provided hot food for Rs. Was the one who helped thousands of poor people and thus set another example that a beautiful person has a heart and not his shape.
There are many examples like this in the West.
For the development of our society it is essential that we prioritize competence on beauty and do not make beauty a standard of competence so that each person can move forward and work for the development of the country and contribute to the development of the country itself. Also avoid this beauty contest and let the rest of the people around you self-esteem so that everyone can grow.

Leave a Comment