Lambay Baal Khubsurti Be Misaal

Lambay Baal Khubsurti Be Misaal
Lambay Baal Khubsurti Be Misaal

آج کی خواتین اپنے بالوں کو لے کر بہت پر جوش رہتی ہیں کوئی بھی تقریب ہو لڑکیاں اپنے بالوں کو بنا سنوار کے رکھتی ہیں مختلف ہئیر سٹائل بناتی ہیں کیونکہ ہےئر اسٹائل خواتین کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں ۔کچھ خواتین چھوٹے بال پسند کرتی ہیں جبکہ کچھ کو لمبے بال پسند ہوتے ہیں آج اس آرٹیکل میں ہم آپکو ایک ایسے گاؤں کے بارے میں تفصیل سے بتائیں گے جنکی خواتین بال نہیں کاٹتی ہیں ۔
دراصل یہ لوگ اپنی نسلوں کو آگاہی دیتے ہیں کہ دنیا کتنی بھی آگے چلی جائے وہ اپنا کلچر اور رسم ورواج نہیں بھو لیں گے ۔
یہ افراد چین کے ”یاؤ(Yao)“نسلی گروپ میں شامل ہیں ۔جو آج بھی اپنی دو ہزار سالہ روایات پر قائم ہے ۔آج چین ترقی یا فتہ ممالک میں شامل ہوتا ہے ۔
یکن انہوں نے اپنے قدیم رسم ورواج کو زندہ رکھا ہوا ہے ۔چین کے صوبے میں کو انگری قصبے میں ”ہوا نگ لو“میں رہائش پذیر خواتین عجیب وغریب رسم کو زندہ رکھے ہوئے ہیں ۔
یہ خواتین اپنی پوری زندگی میں صرف ایک بار بال کاٹتی ہیں ۔
وہ شادی سے قبل بال کٹواتی ہیں یہی وجہ ہے کہ یہاں کی خواتین کے بال نہایت لمبے ہوتے ہیں ہر عورت کے بال پاؤں تک جارہے ہوتے ہیں کسی کو بھی بال کٹوانے کی اجازت نہیں ہوتی شاید ہی کوئی عورت ایسی ہوجس کے تین فٹ سے کم بال ہو۔کئی خواتین کے بال تو چھ فٹ یا سات فٹ سے بھی زیادہ لمبے ہیں ۔
وہ ان کو سنبھالنے کیلئے بہت محنت کرتی ہیں ۔بالوں کو صاف ستھرا رکھنے کیلئے مختلف طریقے اپناتی ہیں ۔
یہ خواتین اپنے بالوں کو انتہائی خوبصورتی اور نفاست کے ساتھ اپنے سروں پر یوں باندھتی ہیں جیسے پگڑی باندھی گئی ہو۔اچانک نظر پڑنے سے یوں لگتا ہے جیسے انہوں نے سیاہ رنگ کی کوئی ٹوپی پہن رکھی ہے۔لیکن دیکھا جائے تو انہوں نے اپنے بالوں کو بہت اچھے طریقے سے نہایت خوبصورت انداز میں باندھا ہوتا ہے اپنے بالوں کے مختلف ہےئر سٹائل بھی بنائے ہوتے ہیں تا کہ بال اچھے انداز میں سمیٹے رہیں اور خوبصورت نظر آئیں بالوں سے ہٹ کریہ خواتین اپنے رسم ورواج کو قائم رکھتے ہوئے لباس کی رسومات کا بھی خیال رکھتی ہیں یہی وجہ ہے کہ ایک خاص لباس انکی پہچان ہے ۔
یہ خواتین اپنے لباس کے رنگ سے اپنی روایات کا مظاہرہ بھی کرتی ہیں ۔ان کا مخصوص لباس جو کہ سیاہ اور سرخ رنگ کی آمیزش پر مشتمل ہوتا ہے ۔اس پر کشیدہ کاری کی گئی ہوتی ہے ۔ان کی مردم شماری رپورٹ کے مطابق اس قبیلے کے 78خاندان ہیں اور ان کے افراد کی مجموعی تعداد سے 6سو سے زائد ہیں ۔اس قبیلے کی اکیاون سالہ خاتون پین ڈی فینگ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتا یا کہ ”میں نے بھی زندگی میں ایک بار بال کٹوائے تھے۔
اس کا کہناتھا بالوں کے حوالے سے نسل درنسل ہمیں یہ بات سکھائی جاتی ے کہ بال نہیں کٹوانے یہی وجہ ہے کہ ہم بچپن سے ہی بال نہیں کٹواتیں جب ہماری عمر اٹھارہ سال ہوتی ہے تو زندگی میں پہلی بار ہمارے بال کاٹے جاتے ہیں ۔یہ اس بات کا اعلان ہوتا ہے کہ لڑکی بالغ ہو گئی ہے اور وہ شادی کر سکتی ہے ۔کوئی لڑکی جب اٹھارہ سال کی ہوتی ہے تو اس کی بال کٹوانے کے لئے ایک تقریب کا اہتمام کیاجا تا ہے جس میں پورے قصبے کے لوگ شرکت کرتے ہیں ۔
یہ کٹے ہوئے بال سنبھال کر رکھ لیتے ہیں اور جب انکی شادی ہوتی یہ تو وہ یہ کٹے ہوئے بال اپنے سر پر موجود بالوں کو سنبھالنے کے لئے بطور کلپ استعمال کرتی ہیں ۔یہاں کٹے ہوئے بال ہی لڑکی کے شادی شدہ ہونے کی علامت ہیں ۔دنیا میں سب سے زیادہ لمبے بال رکھنے کا آغاز بھی چینی خاتون کے پاس ہے جس کا نام ڈی کیوپنگ ہے اس کا نام گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل ہے۔مئی2004ء میں اس کے بالوں کی لمبائی 18فٹ 554انچ تھی ڈی کیوبنگ نے 1973ء سے اپنے بال بڑھانے شروع کئے تھے اب تک کوئی خاتون اس سے زیادہ بال بڑھانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

Today’s women are very passionate about their hair. Whatever the function, the girls keep their hair stylish and make different hairstyles as the hairstyles add to the beauty of women. Some women prefer short hair while Some Love Long Hair Today In this article we will tell you in detail about a village whose women do not cut their hair.
In fact, they tell their generations that no matter how far the world goes, they will not forget their culture and rituals.
These individuals are included in the “Yao” ethnic group of China.
But they have kept their ancient rituals alive.
These women cut hair only once in their entire life.
They get their hair cut before marriage, which is why the women here have very long hair. Every woman’s hair is going to the feet. No one is allowed to get a haircut. Yes, many women’s hair is six feet or more than seven feet long.
They work very hard to handle them. There are different ways to keep the hair clean.
These women tie their hair with their beauty and sophistication on their heads like a turban. Suddenly, it looks as if they are wearing a black hat. They are also very nicely woven to create different hairstyles for their hair so that the hair is well coated and look beautiful. They also care about why a particular garment is recognized.
These women also showcase their traditions by the color of their clothing. Their distinctive clothing, which consists of a mixture of black and red, is embroidered. According to their census report, this tribe There are 78 families and their total number of people is more than 600. The twenty-one-year-old woman of the tribe, Pan De Feng, told the media, “I too had a haircut once in my life.”
Her story regarding hair is taught to us that hair loss is the reason why we do not cut hair since childhood when we are eighteen years old. It is announced that the girl has become an adult and she can get married. When a girl is eighteen, a haircut is organized for which people from all over the town attend.
They handle the cut hair and when they are married, they use these cut hair as a clip to handle the hair on their head. Here, the cut hair is a sign of the girl being married. The Chinese woman also has the earliest haircut in the world, whose name is Dee Kuoping. Her name is included in the Guinness Book of World Records. In May 2004, her hair length was 18 feet 554 inches. Hair began to grow so far no woman has been able to grow more hair than this.

Leave a Comment