Shakhsiyat Ko Pur Kashish Bananay Ke Lawazmaat

Shakhsiyat Ko Pur Kashish Bananay Ke Lawazmaat
Shakhsiyat Ko Pur Kashish Bananay Ke Lawazmaat

vمشرقی روایات میں مہندی کو ایک اہم مقام حاصل ہے ۔یہ نہ صرف زیبائش آرائش کے لیے استعمال کی جاتی ہے بلکہ طبی نکتہ نگاہ سے بھی یہ ایک منفرد حیثیت کی حامل ہے ۔
آج کل اگر چہ آرائش وزیبائش کے لیے مہندی کے استعمال میں کمی دیکھنے میں آتی ہے لیکن پھر بھی روایات کا بھرم رکھنے والی خواتین نے مہندی کو ترجیح دینے کا فریضہ سر انجام دیتے ہوئے اسے اپنے آرائش وزیبائش کے لوازمات میں شامل رکھا ہے
اگر چہ مہندی کا استعمال آرائش وزیبائش کے لیے کیا جاتا ہے اور اس کے استعمال کے اس پہلو کی حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا لیکن طبی حوالے سے بھی مہندی کو ایک ترجیجی مقام حاصل ہے ۔
موسم گرما میں جسم کی فاضل حرارت زائل کرنے کے لیے اس سے استفادہ کیا جاتا ہے ۔
طبی ماہرین طب کے حوالے سے اس کے گوناں گوں فوائد کی ایک طویل فہرست پیش کر سکتے ہیں لیکن موسم گرما میں غیر طبی افراد بھی اس سے خاطر خواہ فائدہ حاصل کرتے ہیں اور اپنے جسم کی فاضل حرارت زائل کرتے ہیں اور سکون پاتے ہیں ۔
اگر چہ پرانے وقتوں میں دلہن کے لیے ابٹن اور مہندی کونا گزیر تصور کیا جاتا تھا اور شادی کے دن سے قبل دلہن کوابٹن سے سنوا رنا اور شادی کے دن اس کے ہاتھوں کو مہندی کے مفرد اور دیدہ زیب ڈیزائینوں سے آراستہ کرنا ایک قدیم ثقافتی روایت سمجھا جاتا تھا اور یہ روایت اپنی جگہ قائم تھی کہ اس دوران جدیدیت کے نام پر امراء کا ایک ایسا طبقہ منظر عام پر آیا جو قدیم روایات کی نفی کرنے پر تلاہوا تھا۔
لہٰذا طبقہ امراء میں مہندی کی روایت کو پس پشت ڈال دیا گیا کیونکہ وہ اسے ایک دقیانوسی روایت تصور کرتے تھے لیکن یہ طبقہ زیادہ دیر تک اس قدیم ثقافتی روایت کی مزاحمت سر انجام نہ دے سکا اور یہ قدیم ثقافتی روایت ایک مرتبہ پھر زندہ ہوگئی ۔
آج اس قدیم روایت کے ساتھ ان گنت خواتین کاروزگاروابستہ ہے اور یہ قدیم ثقافتی روایت ایک پیشے کی حیثیت اختیار کر چکی ہے ۔
مہندی لگانے اور مہندی کے ڈیزائن سے سنوار نے کے لیے بے شمار ماہرین موجود ہیں اور شب وروز اس قدیم روایت کی خدمت سر انجام دے رہے ہیں ۔
آج کل مہندی کون میں بھی دستیاب ہے اور خاصی مقبول ہے ۔اس کے مختلف ڈیزائن بنائے جاتے ہیں وہ سنگھارکے حسن کو دوبالاکردیتے ہیں ۔
مہندی لگانے کا طریقہ
مہندی لگانے سے قبل اپنے ہاتھوں کو معیاری صابن کے ساتھ بخوبی دھو کر خشک کرلیں ۔
آپ مہندی کی جو کون استعمال کر رہی ہوں اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ معیاری ہو۔
وہ کون جو کافی عرصے سے رکھی ہوئی ہو اسے استعمال کرنے سے اجتناب کریں
جب آپ مہندی لگالیں اس کے بعد اس پر کسی بھی چیز کے لگانے سے اجتناب کریں کیونکہ اکثر خواتین مہندی کے سوکھنے انتظار کرتی ہیں اور اس کے بعد اس کے اوپر لیموں کارس یاپانی میں چینی ملا کر لگاتی ہیں ۔
لیکن اس عمل سے اجتناب کرنا چاہیے کیونکہ اس عمل کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ الٹا یہ نقصان ہوتا ہے کہ مہندی پھیل جاتی ہے ۔لہٰذا محتاط رہیں اور مہندی کے اوپر کوئی بھی چیز لگانے سے گریز کریں ۔
جب مہندی بخوبی سوکھ جائے تب ہاتھ دھو کر خشک کرلیں ۔
یہ بھی ضروری ہے کہ مہندی تقریب میں شرکت کرنے سے دو روز قبل لگائی جائے تاکہ اس کا رنگ نکھر کر نمایاں ہو سکے کیونکہ مہندی کی رنگت تبدریج نکھر کر سامنے آتی ہے ۔مہندی خشک ہونے کے بعد جب آپ ہاتھ دھوتی ہیں ۔تب مہندی کی رنگت آہستہ آہستہ نکھرتی ہے۔

Mehndi has an important place in the Eastern traditions. It is not only used for ornamental decoration but also has a unique status from medical point of view.
Nowadays, even though the use of henna for decorative adornment is decreasing, women who are traditionally obsessed with the duty of giving mehndi a priority, have included it in their decorative adornment accessories.
Although Mehndi is used for decorative adornment and no one can deny the fact of its use, Mehndi still has a priority in the medical field.
It is used in the summer to absorb excess body heat.
Clinicians can offer a long list of the benefits of this medicine in medicine, but in the summer, non-medical people also benefit from it and lose their body heat and relax.
Although in ancient times the bride-to-be was considered to be the Abbott and Mehndi Kona, and before the wedding day, the bride had to listen to the kobutan and to decorate her hands with the unique and intricate embellishments of the mehndi on the wedding day is an ancient cultural tradition. It was considered and tradition holds its place that in the name of modernity, a section of the Umayyads came to the scene which was a blow to the rejection of ancient traditions.
Therefore, the tradition of the Mehndi was backfired in the class of Imams because they considered it a stereotypical tradition, but this class could not resist the ancient cultural tradition for a long time and this ancient cultural tradition once again came alive.
Today, countless women are associated with this ancient tradition, and this ancient cultural tradition has become a profession.
There are numerous experts on henna and henna designs to improve the trim and late night are serving this ancient tradition.
Nowadays also available in Mehndi Koon and is especially popular. Various designs are made that replicate the beauty of Sangar.
How to apply henna
Before applying henna, wash your hands thoroughly with standard soap and dry.
Who you are using Mehndi for, it must be standard.
Avoid using one that has been around for a long time
When you apply henna then refrain from applying anything on it as most women wait for the mehndi to dry and then add the sugar in lemon curry or water on top of it.
But this process should be avoided as it does not have any benefit but rather the downside is that the henna spreads. So be careful and avoid putting anything on the henna.
When the henna is dry, wash and dry it.
It is also important to apply it two days before attending the mehndi ceremony so that its color can come out noticeable as the color of the henna comes out as a change. After washing the honey, you wash your hands. The color turns out to be gradual.

Leave a Comment