Zewraat Aap Ka Husn Barhayain

Zewraat Aap Ka Husn Barhayain
Zewraat Aap Ka Husn Barhayain

عورت اور زیورات ایک دوسرے کے لئے ہمیشہ ہی سے لازم وملزوم ہیں زیور کے بغیر عورت ادھوری سی لگتی ہے ۔زیورات آنکھوں کے علاوہ تقریباً جسم کے ہر حصے پر پہننے جاتے ہیں اور زیورات مختلف اسٹائل اور ڈیزائنوں میں دستیاب ہوتے ہیں عورت اور زیورات ایک دوسرے کے لئے ہمیشہ ہی سے لازم وملزوم ہیں زیور کے بغیر عورت ادھوری سی لگتی ہے ۔
زیورات آنکھوں کے علاوہ تقریباً جسم کے ہر حصے پر پہننے جاتے ہیں اور زیورات مختلف اسٹائل اور ڈیزائنوں میں دستیاب ہیں۔
سر کے زیورات:
عورتوں کے زیورات کو اگر دیکھا جائے تو ان کی ابتداء سر کے زیورات سے ہوتی ہے،ان میں ٹیکہ،جھومر اور ماتھاپٹی وغیرہ شامل ہیں ،ٹیکہ اگر چہ ماتھے پر لگایا جاتا ہے،لیکن اس کا ایک حصہ سر پر لگایا جاتا ہے ۔
جھومرصرف دلہنیں اور شادی شدہ عورتیں لگاتی ہیں ،لیکن ماتھا پٹی بعض گھروں میں عورتیں عام زندگی میں بھی لگاتی ہیں۔
ناک کے زیورات:
شادی کے وقت دلہن کی ناک میں نکاح کے فوراً بعد ایک نتھ ڈالی جاتی ہے ،اس میں ایک نتھ بالے کی شکل ہوتی ہے ۔جبکہ دوسری نتھ جسے”بیسر“کہا جاتا ہے ،اسے بھی شادی کے وقت دلہن کو پہنا یا جاتا ہے ۔
اس کے علاوہ ایک زیورلونگ بھی ہے جو کہ شادی کے بعد دلہن کی نتھ اتار کر اس کی ناک میں ڈال دیا جاتا ہے ۔شادی شدہ عورتیں یہ لونگ سونے کی استعمال کرتی ہیں ۔جبکہ لڑکیاں کسی بھی مصنوعی دھات کی بنی ہوئی لونگ شوقیہ ناک میں ڈال لیتی ہیں۔ اس کے علاوہ چھوٹی سی بالی بھی ناک میں ڈالتی ہیں ۔بلاق بھی دیہاتی عورتیں ناک کے درمیان میں پہنتی ہیں۔
کان کے زیورات:
کانوں کے زیورات کے لئے لڑکیوں کے کان بچپن میں چھدوادئیے جاتے ہیں اور ان میں چاندی کے تارکی ہلکی ہلکی سی بالیاں ڈال دی جاتی ہیں ۔
یہ ایک طرح سے زیورات پہننے کی ابتداء ہوتی ہے ۔بعض اوقات والدین خود یابچی کے ننھیال والے بچی کے کانوں میں سونے کی بالیاں ڈال دیتے ہیں ۔بعد میں لڑکیاں عموماً اپنی پسند کے زیورات استعمال کرنا شروع کر دیتی ہیں ۔کانوں کے زیورات میں بالیاں ،ٹاپس،جھالے،بجلیاں ،بندے ،اور تراج وغیرہ شامل ہیں ۔
یہ زیورات اگر اب سے کچھ عرصے پہلے تک سونے ،چاندی وغیرہ کے ہی ہوتے تھے لیکن اب یہ زیورات مصنوعی دھاتوں کے اس قدر خوبصورت ہوتے ہیں کہ بعض اوقات انسان اصل ونقل کا فرق کرنا بھول جاتا ہے ،لیکن ہاں ان کی قیمتوں میں زمین آسمان کا فرق ہے اب وہ سفید پوش لوگ جویہ زیور سونے کا نہیں بنوا سکتے وہ بڑے آرام سے مصنوعی زیور خرید کر اپنی خواہشات کو پورا کر سکتے ہیں۔

گلے کے زیورات:
گلے کے زیورات میں مختلف انداز کے زیورات وقت اور فیشن کے ساتھ ساتھ بدل رہے ہیں ویسے عام طور سے یہ زیورات سونے کے ہی پہنے جاتے ہیں لیکن عورتیں کپڑوں کے رنگ سے میچ کرکے یا بعض اوقات کپڑے پر بنے ہوئے سلمیٰ ستارے کے کام سے میچ کرکے بھی زیوراستعمال کئے جاتے ہیں ۔
گلے کے زیور میں گلوبند،چندن ہار، سات لڑا ،چمپا کلی ،وغیرہ سونے کے بنائے جاتے ہیں ۔
ان کے علاوہ کچھ مخصوص تہذیبوں کے مخصوص زیور بھی گلے میں پہنے جاتے ہیں ۔مدراسی ہار ایک باریک سی پٹی ہوتی ہے ،جوعموماً پازیب جتنی چوڑی ہوتی ہے یہ ہار اپنی نفاست میں لاجواب ہے اور یہ نہ صرف مدراسی خواتین بلکہ عام خواتین بھی شوقیہ پہنتی ہیں ،چندن ہار ،چمپا کلی،وغیرہ۔
اگر اب اس قدر عام نظر نہیں آتے ہیں قیام پاکستان سے پہلے عورتوں کے زیورات میں یہ لازمی شامل ہوتے تھے ۔
موجودہ دور میں سات لڑے ہار کا بہت زیادہ شوفیشن ہے ۔سونے کے بنے ہوئے سات کی تو خیر بات ہی کیا ہے ،لیکن اب یہ ہار مصنوعی دھاتوں کے بھی بے حد خوبصورت مل جاتے ہیں ۔آج کل لڑکیاں گلے میں چھوٹے چھوٹے لاکٹ اور زنجیر استعمال کرتی ہیں جو خوبصورتی کے ساتھ ساتھ نفاست کا تاثر بھی دیتی ہے۔
ہاتھوں کے زیورات:
ہاتھوں میں عام طور پر سے چوڑیاں پہنی جاتی ہیں ،یہ چوڑیاں عام طور سے کانچ کی ہوتی ہیں ،لیکن بعض اوقات یہ چوڑیاں مختلف دھاتوں سے بھی بنائی جاتی ہیں جس میں چاندی ،سونے ،تانبے اور لوہے وغیرہ کی بھی ہوتی ہیں۔
مصنوعی دھاتوں کی چوڑیاں بھی اتنی خوبصورت لگتی ہیں ،حتیٰ کہ قیمتی دھات کی چوڑیاں۔ ہاتھوں کے زیور میں کلائی ،نچبہ وغیرہ بھی شامل ہیں ،یہ چیزیں عام طور سے دلہنوں کو چڑھائی جاتی ہیں ۔بعض اوقات دیہاتی زیور بھی شہروں میں فیشن کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ وہ چاہے تھر کے زیورات ہوں جو عموماً تانبے کے بنے ہوتے ہیں ۔
شہروں کی لڑکیاں مہنگے داموں خرید کر استعمال کرتی ہیں ۔
ہاتھوں میں چوڑیاں کے علاوہ ہاتھوں کی انگلیوں میں انگوٹھیاں بھی پہنی جاتی ہیں ،یہ انگوٹھیاں سونے ،چاندی اور کچھ عرصے پہلے تک پیروں کے زیورات چاندی کے اور بھاری بھاری ہوا کرتے تھے ،لیکن بدلتے ہوئے فیشن نے اس میں نفاست اور خوبصورتی پیدا کر دی ہے ،اب موجود وقت میں یہ ہر ڈیزائن میں موجود ہیں۔ زرقون کے علاوہ دوسری مصنوعی دھاتوں کی ہوتی ہیں ۔
پیروں کے زیور:
پیروں کے زیور ہمیشہ سے ہی برصغیر کی عورتیں استعمال کرتی رہتی ہیں ،جیسے کہ پیروں میں آج کل بیچنگ پازیب کافیشن ہے ۔میچنگ سے مطلب یہ ہے کہ اگر کپڑوں پر گولڈن کام ہے ،گولڈن پازیب،اگر
سلور کام ہے تو سلور پازیب اور پیروں کی انگلیوں میں بچھیاں ،جوخوبصورت اور الگ الگ ڈیزائن کی ہوتی ہیں ،یہ زیور کچھ عرصہ قبل ہماری دیہات کی عورتیں پہنا کرتی تھیں ،آج کل شہروں میں بھی اس کا عام رواج ہو گیا ہے ۔پیروں کا ایک زیور جوکہ کڑانما ہوتا ہے اور ایک ہی پاؤں میں پہنا جاتا ہے ۔

Women and jewelry are always indispensable for each other. Without jewelry, the woman looks incomplete. Jewelry is worn on almost every part of the body except the eyes and jewelry is available in different styles and designs. There are always compulsions for a woman without embellishment.
Jewelry is worn on almost every part of the body except the eyes and jewelry is available in various styles and designs.
Head jewelry:
Women’s jewelry can be seen if they originate from head ornaments, including gloves, chandeliers and beads, etc. If applied to the forehead, but a portion is applied to the head.
The chandelier is worn only by brides and married women, but in some households women wear a normal life.
Nose jewelry:
At the wedding, a nail is inserted into the nose of the bride immediately after the marriage, in which a nail is shaped. While the other nail, called “baser”, is also worn at the bride’s wedding.
Apart from this, there is also a jewelry that, after the wedding, the bride’s nostrils are inserted into her nose. Married women use this clove gold, while the girls use an artificial metallic clove in the nose. Put it Apart from this, the small earrings are inserted into the nose. Balak also wears rural women in the middle of the nose.
Ear jewelry:
Earrings for girls are pierced for earrings, and silver earrings are placed in them.
It is the beginning of wearing jewelry in a way. Sometimes parents put gold earrings in their baby’s earrings. After that, girls usually start using jewelry of their choice. Earrings in earrings. , Tops, lakes, rings, servants, and trays.
These ornaments used to be gold, silver, etc. for some time now, but now these ornaments are so beautiful of synthetic metals that at times man forgets to distinguish the original, but yes their prices are in the sky. The difference is that those white men who can not make jewelry gold can fulfill their wishes by buying synthetic jewelry with great comfort.

Throat jewelry:
In jewelry of the neck, jewelry of different styles is changing with the time and fashion. Usually these jewelry is worn in gold but women match the color of the cloth or sometimes the work of the Salma star made on the cloth. Zeros are also used.
Gloves, sandal necklaces, seven lace, champa kali etc. are made of gold in neck embellishments.
Apart from these, certain ornaments of certain civilizations are also worn around the neck. The necklace is a thin stripe, which is usually as wide as the anklet. There are sandalwood, champa kali, etc.
If this does not seem so common now, before the establishment of Pakistan, it was an essential part of women’s jewelry.
In the present era, seven-neck necklace is very attractive. Gold-plated seven is welcomed, but now these necklaces are also found very beautiful in artificial metal. Today, girls are wearing small pendants and chains around the neck. Which gives the impression of beauty as well as sophistication.
Hand jewelry:
Bangles are usually worn in the hands, these bangles are usually made of glass, but sometimes these bangles are made of different metals, including silver, gold, copper and iron.
Artificial metal bangles look so beautiful, even precious metal bangles. Hand ornaments include wrists, nails, etc. These items are commonly used for brides. Sometimes rural ornaments are also used as a fashion in cities. They are also jewelry made of copper, usually made of copper.
City girls buy and use expensive bargains.
In addition to bangles in the hands, the rings are also worn on the fingers of the hands. These rings used to be gold, silver and, until recently, foot ornaments of silver and heavy, but the changing fashion added to the sophistication and elegance. Yes, they are present in every design now. There are artificial metals other than zircon.
Foot Ornaments:
Foot ornaments are always used by the women of the subcontinent, as is the footwear beige anklet today.
Silver is the work of the silver anklet and the toes in the toes, which are of a beautiful and distinct design, these ornaments were worn by the women of our countryside some time ago, which has become common practice in the cities of today. An ornament that is worn and worn on one foot.

Leave a Comment